ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک میں انتخابی تیاریاں زوروشور کے ساتھ جاری ؛ ریاستی انتظامیہ انتخابات کے لئے مستعد، ضابطۂ اخلاق کے نفا ذ کے ساتھ ہی سرکاری گاڑیاں ضبط

کرناٹک میں انتخابی تیاریاں زوروشور کے ساتھ جاری ؛ ریاستی انتظامیہ انتخابات کے لئے مستعد، ضابطۂ اخلاق کے نفا ذ کے ساتھ ہی سرکاری گاڑیاں ضبط

Wed, 28 Mar 2018 00:13:10    S.O. News Service

بنگلورو،27؍مارچ(ایس او نیوز) الیکشن کمیشن کی طرف سے آج ریاستی اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کے باقاعدہ اعلان کے ساتھ ہی ریاست کا انتظامیہ انتخابات کی تیاریوں میں پوری طرح مستعد ہوگیا۔ چیف الیکٹورل آفیسر سنجیو کمار نے بتایاکہ انتخابات کے لئے ضابطۂ اخلاق فی الفور لاگو ہوچکا ہے، ریاستی انتظامیہ کو اسے سختی سے نافذ کرنے کی ہدایت جاری کی جاچکی ہے۔انہوں نے بتایاکہ 2013 کے انتخابات میں ریاست کے ووٹروں کی تعداد 4.36کروڑ تھی، جن میں 2.23 کروڑ مرد ، اور 2.13کروڑ خواتین شامل تھیں۔ جبکہ امسال ووٹروں کی تعداد 4.96کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جن میں 2.52کروڑ مرد، اور 2.44کروڑ خواتین شامل ہیں۔ سال گزشتہ کے مقابل ووٹروں کے اوسط میں 9؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ 7.18لاکھ نئے ووٹروں نے امسال اپنے نام درج کرائے ہیں جن کی عمر 18سال کے آس پاس ہے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ انتخابات میں 71.45 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی اور 3.13کروڑ لو گوں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔ مسٹر سنجیو کمار نے بتایاکہ گزشتہ انتخابات میں ریاست کے پولنگ بوتھس کی تعداد 52034 تھی، اس بار یہ بڑھ کر 56696ہوچکی ہے۔ انتخابات کی تیاریوں کے بارے میں انہوں نے کہاکہ ریاست کے سرکاری ملازمین میں شامل 3.56لاکھ افراد کو انتخابی عملے کے طور پر استعمال میں لایا جائے گا۔ انتخابی ضابطۂ اخلاق کے سختی سے نفاذ کو یقینی بنانے کے لئے1361اسکواڈ قائم کئے گئے ہیں۔ ہر امیدوار کیلئے طے شدہ انتخابی خرچ 28لاکھ روپیوں کی نگرانی کے لئے 1503ٹیمیں اور انتخابی سرگرمیوں پر چل پھر کر نگرانی کرنے کیلئے 1542موبائل ٹیمیں اور ریاست بھر میں سیاسی کارکنوں ، عوام اور دیگر کی نقل وحمل ، خاص طور پر بھاری رقومات کے لانے لے جانے کی نگرانی کیلئے 2018مقامات پر ناکہ بندی چوکیاں قائم کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایاکہ پہلی بار انتخابات میں موبائل ٹیموں کو جی پی ایس سے ہم آہنگ کیا جائے گا تاکہ الیکشن کمیشن کی ہر گاڑی کے مقام کی نگرانی کی جاسکے۔ہر پولنگ بوتھ کو جی آئی ایس کے ذریعے ڈیجٹل میاپنگ سے جوڑدیا جائے گا اور پہلی مرتبہ ہر پولنگ بوتھ سے راست ویب کاسٹنگ کا انتظام بھی کیا گیا ہے، معذور ووٹروں کی سہولت کے لئے ہر پولنگ بوتھ میں خصوصی انتظام رہے گا۔ ہر ووٹر کو اپنے پولنگ بوتھ کا مقام معلوم کرنے کیلئے ایس ایم ایس اور موبائل ایپ خدمات متعارف کروائی گئی ہیں۔ جن پولنگ بوتھوں پر زیادہ تعداد میں ووٹروں کی قطاریں ہوں وہاں ووٹروں کو پہنچنے کے لئے قطار کی صورتحال سے بھی آگاہ کرایا جائے گا۔ انتخابی عمل کی نگرانی کیلئے پہلی بار یکساں نظام متعارف کروایا گیا ہے۔ انتخابی دھاندلیوں اور دیگر امور سے جڑی سنگین شکایتوں سے نمٹنے کے لئے جی آئی ایس ٹراکنگ نظام لاگو کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست بھر میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں اور وی وی پیاٹ کے متعلق ذرائع ابلاغ کے نمائندوں ، سیاسی پارٹیوں اور عوام کو بیدار کرنے کے لئے خصوصی مظاہروں کا پروگرام طے کیاگیا ہے۔ نوجوان ووٹروں میں بیداری لانے کے لئے الیکشن کمیشن کی طرف سے ریاست میں چلائی گئی مہم کو مسٹر سنجیو کمار نے کامیاب قرار دیا اور کہاکہ ان انتخابات میں شہری علاقوں میں ووٹنگ کے اوسط کو بڑھانے کے لئے خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انتخابات کے لئے معروف کرکیٹر راہول ڈراوڈ کو برانڈ امباسیڈر بنایا گیاہے۔ معروف فلم ساز یوگیش بھٹ نے انتخابی بیداری کے متعلق خصوصی ترانے کی ہدایت کاری کی ہے۔ اس موقع پر اڈیشنل چیف الیکٹورل آفیسر ڈاکٹر کے جی جگدیش نے کہاکہ انتخابی ضابطۂ اخلاق لاگو ہونے کے بعد حکمران پارٹی کو کسی نئے اعلان کا اختیار نہیں ہوگا، البتہ جو پروگرام جاری ہیں وہ بے روک جاری رہیں گے۔ کسی بھی اسکیم کے تحت نئے مستحقین کا انتخاب اراکین اسمبلی اور اراکین پارلیمان کے علاقائی ترقیاتی فنڈ سے رقم کا اجراء وغیرہ ممنوع قرار دیا جاچکا ہے۔سرکاری بھرتیوں پر پابندی لگادی گئی ہے۔ وزراء اور عوامی نمائندے سرکاری گاڑیوں کا استعمال نہیں کرسکتے۔ البتہ خشک سالی اور سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے فنڈز کی فراہمی کی مشروط اجازت دی گئی ہے۔ اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کمل پنت نے بتایاکہ محکمۂ پولیس کے شعبۂ سائبر کرائم نے ابھی سے سوشیل میڈیا کی سرگرمیوں پر نظر رکھنی شروع کردی ہے۔اس میں اگر کسی طرح کی قانون شکنی یا دل آزاری ہوئی تو آئی ٹی قوانین کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ سوشیل میڈیا کے انتخابی مہم کے لئے استعمال کے سلسلے میں الیکشن کمیشن نے ہر امیدوار کو واضح رہنما خطوط جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان رہنما خطوط کی پامالی پر سخت کارروائی ہوگی۔ 


Share: